اطہرمسعود کا کالم — ۔دیدۂِ بینا

Athar Masood Column – Dida -e- Bina

PAANCH CHOOHON KA ANJAAM!!!!!!! مارچ 22, 2013

Filed under: اطہر مسعود کا لم ۔۔۔ دیدہ بینا — Masood @ 10:47 am

This was written on Mar7,20109

https://atharmasood.wordpress.com/2010/03/17/paanch-choohay-ghar-sey-niklay-karnay-chalay-shikaar/

 

Eid-e-Meelad;Nabi(SA) say aisi mohabbat kis kaam ki??? جنوری 25, 2013

Eid-e-Meelad;Nabi(SA) say aisi mohabbat kis kaam ki???
https://atharmasood.wordpress.com/wp-admin/post.php?post=1830&action=edit

 

Benazir Bhutto Aaj Phir Uss ki Yad Aaee دسمبر 27, 2012

https://atharmasood.wordpress.com/wp-admin/post.php?post=881&action=edit

 

16 December,A Day We Forgot!!!!!!! دسمبر 15, 2012

6 دسمبر “آج……….……سازِ درد نہ چھیڑ”

مشرقی پاکستان میں  میرا کوئی رشتہ دار نہیں  تھا۔ میری کسی سے دوستی یاری بھی نہیں  تھی پھر 16 دسمبر  1971ء  کو میں  زندگی میں  پہلی بار بچوں  کی طرح اتنا بلک بلک کر کیوں  رویا۔ یہ دن تو میری سالگرہ کا دن تھا جس دن میں  اور میرے یار دوست ہلکا پھلکا ہلہ گُلہ بھی  کرلیتے تھے کہ ہمارے گھر میں  سالگرہ منانے کی کوئی رسم یا روایت نہیں  تھی۔ پھر اس کے بعد ہر سال جب 16 دسمبر آتا ہے تو میری آنکھوں  سے  آنسو کیوں  نکل آتے ہیں ؟ الیکشن ہوئے تو نتائج فوجی جنتا کی توقعات کے بالکل برعکس نکلے۔ مشرقی پاکستان میں  “غدار”شیخ مجیب الرحمان کے مخالفوں  کو صرف چار نشستیں  ملیں ۔ مغربی پاکستان میں  “باغی” ذوالفقار علی بھٹو جیت گیا۔ یہیں  سے معاملات نے پلٹا کھایا فوج نے کسی بھی طریقے سے بھٹو کو ساتھ ملا لیا اور انہوں  نے اعلان کردیا کہ مغربی پاکستان سے جو رکن اسمبلی کے اجلاس میں  شرکت کیلئے ڈھاکہ جائے گا اس کی ٹانگیں  توڑ دی جائیں  گی۔ مجیب الرحمان نے پلٹن باغ میں  جلسہ کیا۔ اس نے پاکستان کی سلامتی اور سیاسی مفاہمت کی بات کی لیکن ہمارے حکمرانوں  نے طے کرلیا تھا کہ اقتدار منتقل نہیں  کرنا۔ مشرقی پاکستان کے لوگ اپنے فیصلے کی توہین برداشت نہ کرسکے اور سڑکوں  پر نکل آئے۔ فوج نے حسب معمول “حکومتی عملداری” کے نعرے مارنے شروع کردیئے اور “باغیوں ” کے خلاف آپریشن شروع ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کے فوجیوں  نے اپنے ہم وطنوں  پرگولی چلانے سے انکار کردیا جس پر پہلے جنرل ٹکا خان کو وہاں  بھیجا گیا جو “ٹوکا خاں ” کا خطاب لے کر واپس آئے پھر پاکستانی تاریخ کے شرمناک ترین کردار جنرل نیازی کو ایسٹرن کمان کا کمانڈر بنا کر بھیج دیا گیا۔ جرنیل اعلان کرتے رہے کہ ہمیں  لوگ نہیں  زمین چاہئے۔؟”غدار بنگالیوں ” کا قتل عام شروع ہوا بھارت میں  آزاد بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت قائم کردی گئی  پھر پاکستان کے بدترین دشمن بھارت نے اپنا کھیل شروع کردیا اور” بنگالی عوام کے مطالبے پر” اپنی فوجیں  مشرقی پاکستان میں  داخل کردیں ۔ ہماری فوج نے اگر تلہ سازش کیس بنایا فوجی شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کرکے مغربی پاکستان لے آئے اور بغاوت کا مقدمہ شروع ہوگیا۔  روز حکومت اور آئی ایس پی آر کی طرف سے اعلان ہوتا کہ آج دشمن کے اتنے کیمپ تباہ کردیئے گئے، اتنے “باغی” مارے گئے “ساڈے صرف بتالی شیراں  پنج سوچالی مارے نیں “۔ لاکھوں  مسلمانوں  کے گلے کٹ گئے۔ سیاستدان اور اہل قلم سیاسی مفاہمت کی بات کرتے رہے لیکن کسی کے کان پر جوں  بھی نہ رینگی۔ وہ ساتویں  امریکی بیڑے کی روانگی کے خبریں  چلاتے رہے۔ نہ امریکی بیڑہ آیا نہ کوئی امریکی۔ مجھے یاد ہے 16 دسمبر کی صبح بھی پاکستان ٹیلی ویژن پر پاک فوج کی فتوحات کی خبریں  آرہی تھیں  دوپہر سے پہلے اورئینٹل کالج ہاسٹل کے ٹی وی پر منیر نیازی کی مشہور غزل چل رہی تھی وہ قیامتیں  جو گزر گئیں تھیں  امانتیں  کئی سال کی یہ نماز عصر کا وقت ہے یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی اور پھر عصر کے بعد وقت زوال آن پہنچا۔ پاکستان کی “شیر دل” فوج نے “گیدڑوں ” کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ پاکستان بنانے میں  تو اس کا کوئی کردار نہیں  تھا البتہ پاکستان توڑنے کے عمل میں   وہ نہ  صرف عامل CATALYST بلکہ بڑی عامل CATALYST MAGOR   بن گئی۔ پورے پاکستان میں  ہاہا کار مچ گئی میں  نے اپنی زندگی میں  اتنے اجتماعی بین نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد سنے اسی زمانے میں  شاید نعیم صدیقی مرحوم نے لکھا میں  کیا بتاؤں  کہ خیبر سے چاٹگام تلک وہ میرے دوست نہیں  تھے کہ میرے بھائی نہیں 90 ہزار پاکستانی فوجی بھارتی قید میں  گئے تو قید سے بھاگنے کیلئے ان کے “کارناموں ” کی کہانیاں  اخبارات میں  چھپوائی جانی لگیں ، کسی کو شرم نہیں  آئی کہ بھٹو نے کس طرح معافیاں  مانگ کر اپنے فوجیوں  کو بھارتی قید سے نکالا اور اس وقت یہ کتنے مومن بنے ہوئے تھے۔ بڑے بڑے جرنیلوں  نے کس طرح اپنی مونچھیں  نیچی کی ہوئی تھیں ۔  آہستہ آہستہ مونچھوں  کا کلف بحال ہونے لگا، نوکیں  سنورنے لگیں ، پھر آواز بھی نکلنے لگی اور حکمرانی کے خواب دوبارہ ان کی آنکھوں  میں  لہرانے لگے۔آج جب میں  اُنہی جرنیلوں  کو حب الوطنی اور استحکام پاکستان پر لیکچر دیتے دیکھتا ہوں  تو دل کرتا ہے کہ ……! وقت گزر گیا چند سال ہم “یوم سقوط مشرقی پاکستان” مناتے رہے۔ مشرقی پاکستان کو واپس لینے کی باتیں  بھی ہوتی رہیں  حتیٰ کہ 35 سال گزر گئے  اور اب ہمارے حکمرانوں  نے اس کاذکر بھی کرنا چھوڑ دیاہے۔ پہلے کچھ لوگ مشرقی پاکستان سے تعلقات کی بحالی اور کم از کم کنفیڈریشن قائم کرنے کی باتیں  کرتے رہے۔ حکمران کبھی تو “بنگلہ دیش نامنظور” کے نعرے لگانے والوں  پر ڈنڈے برساتے اور کبھی خاموش رہتے اور اب تو خیر بالکل ہی خاموش ہوگئے ہیں ۔” واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ ہم کو حریفِ لذتِ آزار دیکھ کر اب ہم اپنا ایک بازو کٹ جانے اور ایک بھائی کی موت کا سوگ بھی نہیں  مناتے اور بھٹو کے نئے “پاکستان” پر ہی گزارا کرلیا ہے پتہ نہیں  جو کچھ آج کل ہورہا ہے وہ مجھے پرانی فلم کا ہی نیا پرنٹ کیوں  لگتا ہے۔ صدر مملکت فرماتے ہیں  کہ ان کے دور حکومت میں  فیڈریشن پہلے سے کمزور ہوگئی ہے اگر ان کو واقعی یہ احساس ہے پھر کیوں  یحییٰ خان، ٹکاخان اور امیر عبداللہ نیازی والی حرکتیں  دہرائی جارہی ہیں ۔ حضرت علیؓ کا قول یا عربی کا مقولہ ہے “لاتکن رطباً فَتُعسَرُ ولاتکن یا بساً فتقصر”کہ” رس بھرا  نہ بن نچوڑ لیا جائے گا، خشک نہ بن توڑ دیا جائے گا”۔ ہم بزرگوں  کے اقوال اور تجربات پر کیوں  غور نہیں  کرتے۔ مومن خاں  مومن کی ایک مشہور غزل کا شعر ہے پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگی پھر وہی پاؤں  وہی خارمغیلاں  ہونگے 16 دسمبر کو نہ جانے کیوں  میں  بعض اوقات پاکستان کے متعلق پہلے سے زیادہ فکر مند ہوجاتا ہوں  اور مجھے لگتا ہے کہ ہمارے حکمران آج کل مومن کی اسی غزل کے آخری شعر پر عمل پیرا ہیں  کہ عمر ساری تو کٹی عشق بُتاں  میں  مومن آخری وقت میں  کیا خاک مسلماں  ہوں  گے آج جب میری سالگرہ ہے میں  کیسے اپنے بچوں  کے ساتھ بیٹھ کر کیک کاٹوں  کہ” آج کچھ درد مِرے دل میں  سوا ہوتا ہے”آج مجھے اپنے کٹے ہوئے بازو کا درد کچھ زیادہ ہی ہورہا ہے اور یوں  لگتا ہے کہ میرا باقی جسم بھی ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنے والا ہے۔ سو اپنی تکلیف کا اظہار کررہا ہوں  کہ شاید کوئی مسیحا میرے درد کا علاج کرسکے، میرے زخموں  پر مرہم رکھے اور مجھے بے وقت موت سے بچا سکي…… میں  کب تک کسی مہدیِٔ موعُود کا انتظار کروں  اور کب تک مردہ تن میں  جان ڈالنے والے کسی ابن مریمؑ کی راہ دیکھوں ۔ کہیں  اتنی دیر نہ ہوجائے کہ بقول غالب: مر گیا صدمۂِ یک جنبش لب سے غالب ناتوانی سے حَریف دمِ عیسیٰ ؑ نہ ہوا

 

An anylisis of bye elections in Punjab,,, پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کا تجزیہ دسمبر 6, 2012

پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کا تجزیہ کرنے  میں دو باتیں ہمیشہ مد نظر رہنی چاہیے

نمبرایک کہ نون لیگ نے کتنی نشستیں جعلی ڈگریوں کی وجہ سے خالی کیں اور کتنی جیتیں ؟؟؟

نمبر دو کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ‘معجزہ’ کیسے  ہوا کہ صرف پنجاب کی ہر نشست پر

ضمنی انتخابات میں عام انتخابات کے مقابلے میں اوسطابیس ہزار (٢٠٠٠٠ ) ووٹ زیادہ

پڑے اور  یہ سارے کے سارے ووٹ صرف نون لیگ کو ہی ملے یہ اضافی  ووٹ

کن فرشتوں نے ڈالے ؟؟؟ کوئی ان سوالوں کے جواب تلاش کر لے تو

گتھی خود ہی سلجھ جاۓ گی -اور ان انتخابات کی شفّافیت بھی کھل کر سامنے

آ جاۓ گی

 

رہے یہ سوالات تو ان کے جوابات بھی سب کو معلوم ہیں اور ان نتائج کی حیثیت بھی

بالکل ظاہر–

جب سارا کام ہی جعلی ہو تو اس کی بنیاد پر کھڑی کی

 

 

عمارت کتنی پایدار ہو گی؟؟

اس کا اندازہ لگانا کوئی  راکٹ سا ینس نہیں!!!!

 

Aik Sheir>>>>>>>>>>ایک شعر دسمبر 3, 2012

میں دن بھردن کے ھنگاموں میں گم تھا

!!!!!مگر اب شام ہوتی جا رہی ہے

 

PHIR WOHI KALA BAGH KI REEN REEN!!!!!!!! نومبر 30, 2012

 

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,007 other followers

%d bloggers like this: