اطہرمسعود کا کالم — ۔دیدۂِ بینا

Athar Masood Column – Dida -e- Bina

Saaghir Siddeeqi Ki Aik ghazal مارچ 26, 2013

Filed under: اطہر مسعود کا لم ۔۔۔ دیدہ بینا — Masood @ 4:23 شام
ہم تو جیسے وہاں کے تھے ہی نہیں
بے اماں تھے ۔۔۔ اماں کے تھے ہی نہیں
ہم کہ ہیں تیری داستاں یکسر
ہم تری داستاں کے تھے ہی نہیں …
اب ہمارا مکان کس کا ہے
ہم تو اپنے مکاں کے تھے ہی نہیں
دل نے ڈالا تھا درمیاں جن کو
لوگ وہ درمیاں کے تھے ہی نہیں
Hum to jesay wahaN k thay hi nahi
Bay AmaaN thay … AmaaN k thay hi nahi
Hum k hain teri daastaaN AKsar
Hum teri daastaaN k thay hi nahi
Ab hamara makaaN kis ka hai
Hum to apnay MakaaN k thay hi nahi
Dil nay daala tha darmiyaaN jin ko
Log wo darmiyaaN k thay hi nahi
Advertisements
 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s