اطہرمسعود کا کالم — ۔دیدۂِ بینا

Athar Masood Column – Dida -e- Bina

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے دسمبر 14, 2006

Thursday, December 14, 2006
 

 

 

پاکستان تازہ تازہ بنا تھا۔ لوگ بھی اتنے روشن خیال اور سیانے نہیں  ہوئے تھے۔ "پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہٰ الا اللہ” کے نعرے ابھی تک دلوں  میں  بسے ہوئے تھے اکثر لوگوں  کو انگریزوں  اور ہندوؤں  کے ہاتھوں  بننے والی اپنی درگت نہیں  بھولی تھی۔ زخم رس  رہے تھے اور مرہم لگانے والے ہاتھ بھی بہت زیادہ نہیں  تھے۔ اس وقت اگر حکومت یا حکمرانوں  کی طرف سے لوگوں  کے جذبات کے خلاف کچھ ہو جاتا تو لوگ ایک لمحہ بھی برداشت نہیں  کرتے تھے۔ وہ فوراً شور کرتے اور حکمرانوں  کو واپس بھاگتے دیر نہ لگتی۔ اُس وقت ہماری بیورو کریسی انگریز کی سدھائی ہوئی تھی وہ اگرچہ فیصلے تو اکثر و بیشتر میرٹ پر ہی کرتی لیکن اس نے کبھی خود کو نوکر نہیں  سمجھا اور نوکر شاہی کی اصطلاح رائج ہوئی۔ اس وقت بھی انگریز دور کی طرح ہی حکومت پر تنقید، کسی خبر، کسی اداریے، کسی نظم یا کسی مضمون کو اُسی طرح باغیانہ قرار دیا جاتا جس طرح چند سال پہلے تھا۔ اگر مرزا غالب نے انگریز کے بقول غدر اور اہالیان ہندوستان کے بقول تحریک آزادی میں  بات کہنے کے لئے خون دل میں  کانٹے ڈبو لئے
آغشتہ ایم ہرسرخارے بخونِ دل
قانونِ باغبانیٔ صحرا نوشتہ ایم
تو آزادی ملنے اور پاکستان بننے کے بعد بھی اگر کوئی مشکل آئی تو اہل قلم نے ہمت نہیں  ہاری۔ اہل دانش مایوس نہیں  ہوئے۔ پریس اینڈ پبلیکیشنز کے قوانین نافذ ہوئے سنسر لگے تو بھی لوگوں  نے اپنی بات کہی اور بڑے فخر سے کہا
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں  ڈبو لی ہیں  انگلیاں  ہم نے
صحافیوں  اور شاعروں  نے سختیاں جھیلیں ، جیلوں  میں  گئے، نوکریوں  سے نکلے لیکن اپنی بات کہتے رہے تاہم اُس وقت ان کو یقین تھا کہ معاملات ٹھیک ہو جائیں  گے۔ فیض احمد فیض ایک انگریزی اخبار کے ایڈیٹر تھے  اخبارات کو کنٹرول کرنے کيلئے قوانین بنے تو  کہا   
چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں  میں  دم لینے پہ مجبور ہیں  ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں  تڑپ لیں  رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں  ہم
جسم پر قید ہے جذبات پہ زنجیریں  ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں  ہیں
عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے، پہ یونہی تو نہیں  رہنا ہي
دل کی بے سود تڑپ جسم کی مایوس پکار
چند روز اور مری جان فقط چند ہی روز
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
لیکن ہوا یہ ہے کہ گورے انگریزوں  کی جگہ کالے انگریز ہمارے حکمران بن گئے۔ جن کے باپ انگریز سرکار کے کسی محکمے میں  کلرک، اکاؤنٹنٹ یا چپڑاسی تھے انہوں  نے منہ بگاڑ بگاڑ  انگریزی کے چند جملے بول کر ساری قوم کو رعایا سمجھ لیا۔ انگریز حکومت کے خلاف جلوس نکل رہے تھے تو ہال روڈ پر صفائی کرنے والی ایک خاکروبہ نے اپنے شوہر خاکروب سے پوچھا کہ جلوس والے کیا مطالبہ کر رہے ہیں  تو خاکروب نے بڑی معصومیت سے کہا "یہ لوگ ہم سے آزادی مانگ رہے ہیں ” سو آزادی کے بعد یہی کلاس حکمران بن گئی، انگریز نے نوکری کے دوران اُن کے والدین سے جو سلوک کیا تھا وہ اُنہوں  نے پوری قوم سے کرنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
پریس کے متعلق نئے قوانین پر حکومت کا نقطہ نظر جو بھی ہو سوال یہ ہے کہ اگر کوئی اخبار یا صحافی کسی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اُس کو کوئی استثناء حاصل نہیں  اور اُسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ خصوصی قوانین اور ضابطوں  کا مقصد ماسوائے بازو مروڑنے کے اور کوئی ہو ہی نہیں  سکتا۔ حکومت اب جس بات سے فائدہ اٹھا سکتی، وہ کارکن صحافیوں  اور مالکان کے مفادات کا واضح تضاد ہے لیکن یہ کبھی نہیں  ہو سکے گا  کہ آزادیٔ صحافت کے منافی قانون بنیں  اور سب خاموش رہیں ۔ "آزادیِٔ صحافت” کی قوت نافذہ چونکہ اخبار کے مالک کے پاس ہی ہوتی ہے لہٰذا حکومت ہمیشہ اُس سے سودے بازی کرتی ہے لیکن میڈیا جس طرح پھیل رہا ہے اب شاید کسی ایک گروپ سے سودے بازی مقصد پورا نہ کر سکے۔ سو کیا ہی بہتر ہو اگر یہ حکومت بھی ماضی کے تجربات سے سبق سیکھے اور پریس کو دبانے والے نت نئے قوانین بنانے سے گریز کرے کہ نہ ان کا ماضی میں  کچھ فائدہ ہوا نہ مستقبل میں  ہوگا۔ ہاں  عوام اور انڈسٹری کی فلاح کے لئے کوئی کام ہو سکتا ہو تو ضرور کرنا چاہئے لیکن اِس کے لئے کارکن اور مالک کی تفریق نہ کی جائے اور نہ اُن کے اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے۔
جو لوگ صحافت میں  داخل ہوتے ہیں  چند مفاد پرستوں  کو چھوڑ کر اُن کی اکثریت کو اپنے کام اور اُس کے لوازمات کا پوری طرح ادراک ہوتا ہے اُنہیں  پوری طرح پتہ ہوتا ہے کہ انہوں  نے کیا کرنا  اور کس طرح کرنا ہے
جو دِل وِل کو لینے کا ڈھب جانتے ہیں
وہ ترکیب ورکیب سب جانتے ہیں
حکومت کے پاس اپنے حق میں  لکھوانے، پروگرام چلوانے کے ایک سو ایک طریقے ہیں ، سرکار اشتہارات دینے والی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اُس نے ہمیشہ اپنی اِس حیثیت کا استعمال کیا ہے۔ نہ یہ سلسلہ ماضی میں  کبھی بند ہوا نہ مستقبل میں  ہوگا چند سرپھرے اپنی بات کہتے ہیں  اُن کو کہتے رہنے دیں  کہ اس میں  بھی حکمرانوں  کا ہی فائدہ ہے کہ اُن کے سامنے معاملہ کا ایسا رخ بھی آ جاتا ہے جو حکومتی زَلَّہ رُبا کبھی نہ لا سکیں                              
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں  گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں  گے
ہاں  تلخیء ایّام ابھی اور بڑھے گی
ہاں  اہل ستم مشقِ ستم کرتے رہیں  گے
اک طرز تغافل ہے سو وہ اُن کو مبارک
اک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں  گے

Advertisements
 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s