اطہرمسعود کا کالم — ۔دیدۂِ بینا

Athar Masood Column – Dida -e- Bina

How 2013 elections were ‘Managed’???? اپریل 18, 2015

https://atharmasood.wordpress.com/wp-admin/post.php?post=1915&action=edit

 

حکمران یا بے حیا بھکاری ؟؟ فروری 19, 2015

مے کدے میں رات کو اک رند زیرک نے کہا

ہے ہمارے شہر کا والی گدائے بے حیا

مانگنے والا گدا ہے.صدقہ مانگے یا خراج

کوئی مانے یا نہ مانے میر و سلطاں سب گدا

(اقبال)

 

یہ خود کش بمبار کون ہیں ؟؟ فروری 18, 2015

یہ کالم مارچ  2010میں لکھا گیا

 

جب پیپلز پارٹی کے دن گنے جا رھے تھے فروری 8, 2015

 

آٹھ سال پہلے مولویوں پر لکھی گئی ایک تحریر فروری 1, 2015

Tuesday, April 10, 2007

حکمرانوں کا آلۂ کار بننے والے چند جاہل مولوی

علمائے حق کون ہیں  اور علمائے سُؤ کون؟ یہ بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ اسلام کی اپنی تاریخ لیکن جو زوال مولویوں  پر اب کے آیا ہے کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ دیوبندی مکتبۂ فکر خود کو مولانا حسین احمدمدنی اور مولانا قاسم نانوتوی کا جانشین سمجھتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ سّید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ کے وارث مولانا فضل الرحمان ہیں  کہ دین سے زیادہ سیاست ان کی گُھٹّی میں  ہے۔ ان کے والد مولانا مفتی محمود اپنی قبر میں  کیا سوچتے ہوں  گے کہ ان کی گدی کا جانشین کون ہے جو اولاً تو حکمرانوں  سے ٹکر کا حوصلہ ہی نہیں  رکھتا کہ حکمرانوں  کی صحبت نے اس کے منہ کو ایسا “شورہ” لگا دیا ہے کہ احتجاج کیلئے شاہراہ دستور  پر نکلا بھی تو سب سے پہلے گھر چلا گیا اور اب جامعہ حفصہؓ  کا معاملہ ہے تو اس میں  کوئی کردار ادا کرنے سے انکاری ہے،وجہ؟ صرف اتنی کہ نہ اپنے مکتبہ فکرکے چند مولویوں  اور ان کے ہاں  تعلیم حاصل کرنے والی کچھ بچیوں  کی حمایت کھونا چاہتا اور نہ اپنے سرپرست فوجیوں  کو ناراض کرنا چاہتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس کی وجہ سے کچھ لوگ اس سارے معاملے کو حکومت اور چند مولویوں  کی ملی بھگت قرار دیتے ہیں ۔
جنرل پرویزمشرف کے سات سالہ اقتدار کا نصف النہار گزر چکا اور اب غروب کی آخری منزلوں  میں  ہے۔ امریکہ جس نے اس سارے عرصے میں  ان کی غیر متزلزل حمایت کی اب کچھ اُکھڑا اُکھڑا ہے اور بظاہر اس وقت ہمارے حکمرانوں  کے پاس امریکہ کو بیچنے کیلئے کچھ باقی نہیں  بچا سارا سودا فروخت ہوچکا تھا کہ کچھ مولویوں  نے ان کے اقتدار کو آخری سہارا فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج اگر جنرل مشرف امریکیوں  کو کہیں  کہ دیکھیں  علاقے میں  اسلامی انتہاپسندی  اتنی پھیل گئی ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت بھی اس سے محفوظ نہیں  تو شاید حکمرانوں  کے حاشیہ بردار اور سازش میں  بظاہر شریک کچھ مولوی اسے اپنا Selling  Point سمجھتے ہوں    لیکن کوئی امریکی یہ  سودا شاید ہی خریدے کہ انہیں  ایسے ڈراموں  کا ڈرامہ نگاروں  سے زیادہ بہتر پتا ہوتا ہي…  سکرپٹ اتنا بھونڈا اور بھدا لکھا گیا ہے کہ ڈرامے میں  حصہ لینے والے نقاب پوش اور دستانوں  کے پیچھے خفیہ ہاتھ بالکل عریاں  نظر آرہے ہیں ۔ کوئی عقل کا اندھا ہی ہوگا کہ اسے سارے کرداروں  کے کردار کا اندازہ نہ ہو۔ پارہ چنار، وزیرستان اور اسلام آباد کے ڈھاٹا بندوں  کے چہرے پردے کے پیچھے سے بھی صاف نظر آرہے ہیں  اور ڈرامہ نگاروں  کا خیال ہے کہ لوگوں  کو کچھ پتا نہیں  چلے گا۔ وزیر قبائل، اورکزئی قبائل، الطاف حسین کے بیانات اور ان سب کا پس منظر جاننے والوں  سے کچھ چھپا ہوا نہیں … صدر ، وزیراعظم، چودھری شجاعت، شیر پاؤ اور خفیہ ایجنسیوں  کے سربراہوں  کے اجلاس میں  کیا طے ہوا ہوگا اس کا اندازہ لگانا بھی کچھ زیادہ مشکل نہیں ۔
جامعہ حفصہ والے ہیں  کون؟ ان کا اسلام اور اسلامی قوتوں  سے کیا تعلق؟ ہاں  اعجاز الحق کے والد صاحب جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں  جو “اسلام” ایجاد کیا تھا یہ اسی کے برگ وبار ہیں  ساری زندگی فوج اور عسکری قوتوں  کے اشاروں  پر ناچنے والے، ان کے ٹکڑوں  پر پلنے والے اور حکومتی اسلحہ سے جہاد کرنے والے، ان لوگوں  میں  یہ ہمت کب سے آگئی کہ وہ اپنے ہی ملک کے آزاد لوگوں  کو فتح کرنے چل پڑے یہ کون سا اسلام ہے جس کے یہ پرچارک ہیں  اور “ماما جی” کی جو عدالتیں  یہ لگانے کی بات کررہے ہیں  اس کا اختیار انہیں  کس قرانی آیت یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کس حدیث سے ملا ہے۔ اس وقت جب ساری قوم موجودہ حکمرانوں  سے عملاً نفرین کا اظہارکررہی ہے اس کو ایک ایسا ہتھیار فراہم کرنے والے یہ لوگ اتنے جاہل بھی نہیں  جتنے عام مولوی ہوتے ہیں ۔ یہ سب کچھ ایک پوری پلاننگ کا حصہ ہے ورنہ باجوڑ اور دوسرے قبائلی علاقوں  میں  معصوم بچوں  پر بمباری کرنے والے کب سے اتنے رحم دل ہوگئے کہ ان کو “ان معصوم بچیوں ” پر ترس آگیا… دین کی تشریح اور تعبیر کا کام کب سے لال مسجد والوں  نے اپنے ذمے لے لیا۔ ان کو دارالافتاء کا منصب کس نے سونپا؟ کیا جامعہ بنّوریہ اور دیوبندیوں  کے دوسرے ادارے بند ہوگئے کہ ان نام نہاد جہادیوں  نے دین کے معاملہ میں  بھی من مانی شروع کردی۔ سرکاری جگہ پر قبضہ کرکے مسجدیں  اور مدرسہ بنانے والے کس منہ سے دوسروں  کو قانون کا سبق پڑھارہے ہیں ؟
عملاً دیکھیں  تو اگر ایک طرف آئین اور قانون کا حلیہ بگاڑنے والے چند حکمران لوگوں  کی گردنوں  پر سوار ہیں  تو دوسری طرف بھی قانون کو نہ ماننے والے چند بظاہر عالم لیکن عملاً جاہل مولوی،  اسلام کی گردن پر سوار ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ فریقین ایک دوسرے کی غیرقانونی حرکتوں  کو تحفظ دے رہے ہیں ،اور اس کا نتیجہ یہ کہ عام لوگوں  میں  دین کے متعلق سوالات پیدا ہورہے ہیں ۔ اس ملک میں  اتنا کچھ ہوگیا مسلمانوں  کا خون  جتنا ارزاں  اب ہے کبھی نہ ہوا تھا لیکن اسلام کے متعلق کسی کے ذہن میں  کبھی کوئی شک پیدا نہیں  ہوا لیکن چند لوگوں  نے پتا نہیں  کس کے اشارے پر نہ صرف حکمرانوں  کو مضبوط کرنے کیلئے سہارا دیا بلکہ خود اسلام کو بھی تشکیک کا شکار کردیا… یہ مولوی شاید بالکل اس بات سے بے خبر ہیں  کہ انہوں  نے اپنی جہالت سے خود کو قربانی کے بکرے کے طور پر پیش کردیا ہے۔ حکمران جو بظاہر انہیں  طفل تسلیاں  دے رہے اور ڈر کا اظہار کررہے ہیں  اچانک ان سب کو اتنی بے دردی سے مار دیں  گے کہ ان کا نام تو خیر کیا بچے گا البتہ مسلمانوں  کی جگ ہنسائی کا جو سلسلہ انہوں نے شروع کیا ہے وہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا… اب بھی وقت ہے کہ دین کے نام پر دین کی بیخ کنی کرنے والے یہ چند علماء اپنا یہ نام نہاد جہاد اور جانے انجانے میں  حکمرانوں  کے ہاتھوں  میں  کھیلنا بند کریں  کہ یہ جو کچھ کررہے ہیں  اس سے شاید کچھ جہالت زدہ لوگوں  کی تسلی ہوجائے لیکن عملی طور پر فتنۂ قادیانیت اور فتنۂ پرویزیت کی طرح لال مسجد کا معاملہ بھی آخر کار حکمرانوں  کا خود کاشتہ پودا ہی ثابت ہوگا
وہ علم اپنے بتوں  کا ہے آپ ابراہیم
کِیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیم
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری قِصّۂ جدید و قدیم
وہ علم کم بصری جس میں  ہم کنار نہیں
تجلیاّتِ کلیم و مشاہداتِ حکیم

 

مشرف دور اقتدار کے عروج میں لکھا گیا ایک کالم جنوری 26, 2015

Filed under: اطہر مسعود کا لم ۔۔۔ دیدہ بینا — Masood @ 12:37 am

2007

Wednesday, August 01, 2007

ندامت اور شرمندگی اِن کا مُقدّر ہے !!

گورنر پنجاب خالد مقبول اور کچھ دوسرے حکومتی بزرجمہروں  کو گِلہ ہوتا ہے کہ جنرل پرویزمشرف کے اچھے کاموں  کی بھی تعریف نہیں  کی جاتی۔ اصل میں  جنرل صاحب کا طرزِ عمل یہ ہے کہ اولاً تو کوئی اچھا کام اُن سے سرزد ہی نہیں  ہوتا اور اگر ان کی خوش قسمتی اور عوام کی شومِی قسمت سے ہو بھی جائے تو ایسے گندے طریقے سے کرتے ہیں  کہ کوئی تعریف کرنا بھی چاہے تو نہ کرسکي… پھر اس کام کو قوم پر احسان سمجھ کر جتاتے اس طرح ہیں  کہ اِحسان، صدقہ اور اچھا کام گالی لگنے لگتا ہي…کیا ابھی تک کسی نے سبق نہیں  سیکھا؟ کیا اب فوج کو سیاسی کردار دینے پر سوچا جارہا ہے؟ کیا پاکستان کو ترکی بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے؟ اور کیا جنرل صاحب کی یہ ساری دوڑ دھوپ اِسی مقصد کیلئے جاری ہے؟ یہ سوالات بہت سے پاکستانیوں  کے اذہان کو سانپ کی طرح ڈس رہے ہیں  اور کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ۔ جن کو جواب دینا چاہئے ان کو “بادشاہِ وقت” نے حکم دے دیا ہے کہ “منہ بند رکھو”… میرے اقتدار کے غروب ہوتے، سورج کو ایک بار پھر سے طلوع کا نظارہ دیکھنے دو کہ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ اب متروک ہوا۔ اب میں  ہوں  تو پاکستان ہے اور میرے بغیر پاکستان کچھ نہیں … اتنی بڑی پارلیمانی پارٹی ٹُک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویر بنے دل میں  سوچ رہی تھی کہ کیسا ظالم ہے  مارتا ہے اور رونے  بھی نہیں  دیتا ، جب زبان بند رکھنے کا حکم دیا جارہا تھا تو کسی کے منہ میں  اتنے دانت نہیں  تھے کہ کہتا جناب عالی! آپ پاکستان کے کیا لگتے ہیں ؟ پاکستان بنانے اور اس کو سنوارنے میں  تو آپ کا کوئی کردار نہیں  تو اس کو بگاڑنے اور تباہ کرنے کا بیڑا کیوں  اٹھا رکھا ہے؟… کتنے لوگوں  کا حق مار کر محض بندوق کے زور پر منصب نہیں  چھوڑ رہے۔ کتنے جرنیل چیف آف آرمی سٹاف بننے کی حسرت دل میں  لئے رخصت ہوگئے اور آپ ہیں  کہ کسی بات کا کچھ اثر ہی نہیں  لیتي… کس اختیار سے اقتدار کو جونک بن  کرچمٹے ہوئے اور پاکستان کا خُون چُوس رہے ہیں ۔
کیا ہمارے پاک وطن میں  معصوموں  کا خون کبھی اتنا عام ہوا تھا؟ کیا امن و امان کی حالت کبھی اتنی خراب ہوئی تھی؟ کیا وطن کے رکھوالوں  پر اتنا تَبرّیٰ پہلے کبھی بولا گیا تھا؟کیا پاک فوج پر مشرقی پاکستان میں  بھی کبھی اِتنے حملے ہوئے تھے؟ کیا اتنے خودکش دھماکے کبھی ہوئے تھے؟ کیا مخالفوں  پر ملک دشمنی کے تمغے کبھی اس طرح سجائے گئے تھے؟ کیا ہماری سرحدیں  کبھی اتنی غیر محفوظ ہوئی تھیں ؟ کیا مساجد کبھی اس طرح جائے امن کے بجائے جائے فساد بنی تھیں ؟ کیا فحاشی، عُریانی اور بے حیائی کبھی اتنی عام ہوئی تھی؟ کیا عوام کے مال کو کبھی اِس طرح شِیرِ مادر سمجھ کر ہضم کیا گیا تھا؟ کیا سرکاری املاک کبھی اس طرح اَونے پَونے داموں  بیچی گئی تھیں ؟ اور کیا کبھی ایسے لوگ ہمارے حکمران ہوئے تھے کہ  عوام سے کوئی لینا دینا ہی نہیں …ان سب باتوں  کا ذمہ دار کون ہے، ایک پُورا ادارہ یا صرف اس کا اکیلا سربراہ؟ جسے بزعمِ خویش گماں  ہے کہ اُس سے غلطی ہوتی ہی نہیں ، وہ جو کہتا ہے حرفِ آخر ہے، اس کو الہام ہوتا ہے، اس پر (اَعُوذ بِاللّٰہ) وحی نازل ہوتی ہے وہ کوئی غلطی کرہی نہیں  سکتا کہ سیّد اور نبیِ آخر الزماں ؐ کا اَوتار ہي…لوگ درخواستیں  کررہے، مِنّت کررہے، ہاتھ جوڑ رہے ہیں  کہ ہماری جان چھوڑ دیں  کہ آپ کے اقتدار کا ایک ایک دن اس ملک اور اس کی سلامتی کیلئے خطرات میں  اضافہ کررہا ہے۔ آپ نے تو یقیناً اقتدار کے بعد اپنے صاحبزادے  کے پاس چلے جانا ہے، ہم لوگ کہاں  جائیں  گے؟
اگر کور کمانڈروں  نے اُنہیں  نہیں  بھی کہا اور وہ عوام کا دباؤ بھی محسوس نہیں  کرتے تو کم از کم بطور اس ملک کے کمانڈر انچیف،خود سوچیں  کہ انہوں  نے ملک کو تباہی کے کس گڑھے پر لاکھڑا کیا ہے اگر تو اُن کا جواب یہ ہے کہ صورتحال کی ذمہ دار پرانی حکومتیں  ہیں  تو انہیں  یہ بھی پتا ہوگا کہ اس ساری تباہی کے تانے بانے غیرجمہوری اور آمرانہ حکومتوں  میں  ہی بُنے گئے تھے۔ یہ سارا گند اُن اور اُن کے پیشرو جرنیلوں  کا ہی ڈالا ہوا ہے جنہوں  نے قومی مفاد کا نام لے کر قوم کا بیڑا غرق کردیا۔ کسی جمہوری حکومت کے عہدِاقتدار میں  ایسی صورتحال کبھی پیدا نہیں  ہوئی۔ بینظیر بھٹو یا نوازشریف کے ادوار میں  خُون کی ایسی ہولی توکبھی نہیں  کھیلی گئی۔ پاکستان ایک جرنیل کے اقتدار میں  دو لخت ہوا اور اب بھی ایک دوسرے جرنیل کے دور حکومت میں  اسے  نئے سقوط کا سامنا ہي… انہیں  مان لینا چاہئے کہ ان کے پاس ملک کے گمبھیر اور Complicated مسائل کا کوئی حل موجود نہیں  کیونکہ وہ اس کے لئے تربیت یافتہ اور Trained ہی نہیں … رہا یہ سوال کہ فوج کو اقتدار میں  آنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو اس کا بالکل سادہ اور سہل جواب یہ ہے کہ کسی پی ایچ ڈی ڈاکٹر کو اگر اس کام کیلئے مجبور کیا جائے کہ وہ مثانے کا آپریشن کرے تو بیوی، اولاد، ماں ، باپ اور محلے داروں  کے سارے دباؤ کے باوجود وہ کبھی یہ چیلنج قبول نہیں  کرے گا، وہ صاف کہہ دے گا کہ اس کی قابلیت اپنی جگہ مُسلمہ لیکن اس کام میں  اس کی تربیت ہی نہیں  اس نے انسانی جسم چیرنے پھاڑنے کی تعلیم ہی حاصل نہیں  کی، وہ اس آپریشن سے انکار کردے گا۔ اسی طرح کسی کے بھی مجبور کرنے پر آپ کسی بھٹی جھونکنے والے سے دل کا علاج نہیں  کرائیں  گي…آپ اپنے ہی سدھائے ہوئے چند لوگوں  سے اشارہ لیتے ہیں  اور قوم کے جسد کو آپریشن ٹیبل پر لٹا لیتے ہیں ۔ پاکستان کا بھی دل جواب دے رہا ہے، اس کے گردے فیل ہورہے ہیں ، اس کے جگر نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، اس کے دماغ پر فالج کا حملہ ہوچکا ہے، اس کے اعصاب لرز رہے ہیں  اور آپ اس کے نیمِ مُردہ جسم پر تجربے کئے جارہے ہیں ۔ مصنوعی طریقے سے زندہ رکھ کر مرِیض کے لواحقین کو زندگی کا دھوکہ دے رہے ہیں  حالانکہ آپ کو پتا ہے کہ مریض جان کنَی میں  مبتلا ہے۔ خدا کیلئے بس کردیں  اور مریض کا علاج ماہر ڈاکٹروں  سے کرائیں  ہمیں  یقین ہے کہ اللہ شفا دے گا اور اس مُردہ جسم میں  پھر سے زندگی دوڑنے لگے گی ورنہ مریض کے ورثاء سمیت کوئی بھی آپ جیسے غیرتربیت یافتہ ڈاکٹروں  اوراس کو چیرنے پھاڑنے کے ہتھیار فراہم کرنے  والے میل وارڈ بوائز اور فیمیل نرسوں ، کسی کو  معاف نہیں  کرسکے گا۔ معاملات کسی ایک ڈیل سے حل ہونے والے نہیں  آپ تو شاید سنتے ہی نہیں  لیکن بینظیر بھٹو تک تو “جو ڈیل کرے وہ بے غیرت” کا نعرہ ضرور پہنچا ہوگا سو اُن سے ہاتھ ملا کر بھی آپ تو نہیں  بچ پائیں  گے وہ بھی مر جائیں  گی کہ آپ کا حال منیر نیازی والا ہے کہ

ہلاکت خیز ہے اُلفت مَری، ہر سانس خُونی ہے
اِس باعث یہ دُنیا دِل کی قبروں  سے بھی سُونی ہے
اُسے زہریلی خوشبوؤں کے رنگیں  ہار دیتا ہوں
میں  جس سے پیار کرتا ہُوں  اُسی کو مَار دیتا ہوں

آپ نے پہلے نوازشریف سے محبت کی پینگیں  بڑھائیں  وہاں  سے ٹھینگا دکھا دیا گیا تو بینظیر کے پاس پہنچ گئے لیکن وہاں  سے بھی کچھ  نہیں  مل سکے گا کہ وہ بھی اتنی ہُشیار، اور جانتی ہیں  کہ اب جبکہ (ق)  لیگ کے لوگ آپ کی کشتی سے چھلانگیں  لگا کر ان کے جہاز میں  سوار ہونے کیلئے لائنیں  لگائے کھڑے ہیں  وہ خود کیوں  آپ کی ڈوبتی کشتی میں  سوار ہونا پسند کریں  گی؟… یقین جانیں  قرآن کی سورۃ المومنون کی یہ آیت اب پوری ہونے ہی والی ہے کہ “عَمّا قَلیلٍ  لَیُصْبِحُنَّ نَادِمین” کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں  “جب صبح کو اُٹھیں  گے تو ندامت اور شرمندگی اُن کا مقدر ہوگی”!!
آخر میں  شورش کاشمیری مرحوم کی ایک نظم جو 23 اکتوبر 1967 ء کو شائع ہوئی… نظم کا عنوان ہے “انقلاب و انقلاب”…

نَے کوئی ظِلِ الٰہی، نَے کوئی عِزّت مآب
نَے کوئی عَالم پناہے، نَے کوئی وَالا جناب
انقلاب…و …انقلاب
صورتِ حالات نازک، عَصرِ حَاضر نَامُراد
انقلابِ گردشِ گردُونِ گَرداں  زندہ باد
انقلاب…و …انقلاب
جیب کترے خامۂ عَنبر شمامہ کے اَمیں
یہ تماشا اور اِس دھرتی پہ ربّ العَالمِین؟
انقلاب…و …انقلاب
منبروں  پر تاجرانِ دعوتِ اُمُّ الکتاب
سِینہ بریاں ، روح مُضطر، چشمِ گِریاں ، دِل کباب
انقلاب…و …انقلاب
ہم کہاں  تک شہر یاروں  کی ثناخوانی کریں ؟
ہم کہاں  تک ژاژ خائی کی نگہبانی کریں ؟
انقلاب…و …انقلاب
موت کا تاریک سَنّاٹا سویروں  کا حریف
وائے عبرت! مُلحدوں  کی سَان پردِینِ حنیف
انقلاب…و …انقلاب
آگیا نزدیک سے نزدیک تر یومِ حساب
مُغبچے بھی ہوگئے اس دور میں  گردوں  رَکاب؟
انقلاب…و …انقلاب
چار پَیسوں  میں  سیاسی آبرو نیلام ہو
گفتگو کا بے تُکا پن پارۂ الہام ہو
انقلاب…و …انقلاب
ہر نَیا فرعون طاقت سے جُھکایا جائے گا
اَرضِ پاکستان کا ڈَنکا بجایا جائے گا
انقلاب…و …انقلاب

 

عمران خان کے دعوے کی صداقت جاننے کا آسان فارمولا جنوری 13, 2015

Filed under: اطہر مسعود کا لم ۔۔۔ دیدہ بینا — Masood @ 10:18 pm

کسی فورنسک میں وقت کے ضیاع کی ضرورت نہیں جن چونتیس ہزار ووٹوں کے کاونٹر فائل پر سرکاری اہلکاروں کے دستخط اور مہریں موجود نہیں اگر تو ان میں سے انیس ہزار ایاز صادق اور پندرہ ہزار عمران خان کو ملے ہیں تو حلقہ ایک سو بائیس میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی،لیکن اگر پچیس ہزار یا اس سے زیادہ کسی ایک امیدوار کو ملے ہیں تو اس حلقے کے انتخابی نتائج کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا.

 

 

 
Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,010 other followers

%d bloggers like this: