سیتاوائٹ کس کی رشتہ دار ہے؟

Sunday, June 24, 2007
 

سیتاوائٹ کس کی رشتہ دار ہے؟

 

کبھی نہ جانے کیوں  گمان ہونے لگتا ہے کہ جنرل پرویزمشرف پاکستانی عوام کے حقیقی خیرخواہ ہیں …!! سیاست میں  فوج کا کردار کبھی پسندیدہ نہیں  سمجھا گیا لیکن جنرل صاحب کے دور اقتدار میں  جتنی بدنامی فوج کے حصے میں  آئی اس کا چند سال پہلے تصور بھی نہیں  کیا جاسکتا تھا۔ اِسی طرح پاکستانی عوام نے اجتماعی طور پر الطاف بھائی اور ان کی جماعت کو کبھی دل سے پسند نہیں  کیا لیکن 12 مئی کا ایک واقعہ ان کی جھولی میں  ڈال کر اس طرح  دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا کہ کل کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ یہ آپ نے زندگی میں  کتنی بار سُنا ہوگا کہ فوج کی کارکردگی کا تَعیُّن اس کی فتوحات سے نہیں  کیا جاتا… جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں  کیا ان کو اندازہ ہی نہیں  کہ اس دلیل سے فوج کے وجود اور حیثیت پر کتنا بڑا حرف آتا ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ پاکستان کو “فَوجستان” کہنے لگے ہیں  تو دوسری طرف فوج کا دفاع کرنے والے ایسی ایسی لایعنی تاویلیں  دے رہے ہیں  کہ انسان سر پیٹ لے۔ ایسے دوست اور ہمدرد ہوں  تو دشمنوں  کی ضرورت ہی نہیں  رہتی۔ یہی حال ایم کیو ایم کا ہے کہ اس کے سربراہ سمیت کئی عہدیداروں  پر قتل، اِقدامِ قتل، اغوا، تشدد اور بَھّتہ خوری کے اَن گِنت الزامات اور مقدمے ہیں ۔ عمران خان الطاف حسین کا دہلی میں  دیا جانے والا بھاشن دکھا رہے ہیں  جس میں  اُن کا ارشاد ہے کہ “پاکستان کا بَننا  ایک فاش غلطی (Blunder) تھا۔” جو اب عمران خان کو سیتا وائٹ کیس کے حوالے سے دیا جارہا ہے۔ کیا حکومت اور ایم کیو ایم میں  کوئی اتنا بھی پڑھا لکھا یا سمجھدار شخص موجود نہیں  جسے پتا ہو کہ اولاً پاکستانی قانون کے مطابق کسی غیرملکی عدالت کا کوئی فیصلہ پاکستان کی حدود میں  اُس وقت تک نافذ العمل نہیں  ہوسکتا جب تک وہاں  کی حکومت یا متعلقہ فریق اس کی Execution کی درخواست نہ کرے۔ اس کے علاوہ بالکل فَنّی نُقطۂِ نظر سے دیکھا جائے تو ایسا مقدمہ جس کی ڈگری یکطرفہ جاری کی گئی ہو اُسی دن ختم ہوجاتی ہے جس دن متاثرہ فریق اُس کو چیلنج کردے۔ سول اور فوجداری قانون کا یہ طے شدہ اُصول ہے۔ پھر سِیتا وائٹ سے ایم کیو ایم والوں  کی کیا رشتہ داری نکل آئی ہے کہ اس کے “حقوق” کا خیال آگیا…… باجی سسرال میں  دُکھی ہے؟ حقوق زن وشوئی کا معاملہ ہے؟  یا پھر دہشت گردی کے ملزموں  کو “انسانی حقوق” کا خیال آگیا ہے؟ کیونکہ ہمارے علم کے مطابق “گوریاں ” اتنی تعلیم یافتہ اور سمجھدار ضرور ہوتی ہیں  کہ اپنے حقوق کی خود حفاظت کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر سیتا وائٹ اور عمران خان کے Affair کو درست بھی مان لیا جائے تو 20 سال بعد اس پر کیا قانونی گرفت کی جاسکتی ہے؟نوازشریف حکومت بہت سال پہلے اس معاملے کو کافی ہوا دے چکی، تب کچھ نہیں  ہوا تھا، اب کیا ہوگا؟؟
بابر خان غوری نہ جانے کیسے خان ہیں ، سیتاوائٹ کی بیٹی ٹیرین کی تصویریں  لہرا لہرا کر عمران خان کو اور گھر گھر دکھا رہے تھے کہ یوں  لگتا تھا اِن کی کوئی بہن بیٹی ہے ہی نہیں  کیا کوئی شریف آدمی اس حد تک جا سکتا ہے؟ اگر عمران جواباً جذباتی نہ ہوتے اور الطاف حسین کے اس کارندے پر غصہ ہونے کے بجائے صرف ایک قہقہہ ہی لگا دیتے تو اِن کی اتنی بے عزتی ہوتی جو بہرحال نہیں  ہوسکی اور جس کا وہ مستحق تھا۔ آپ کسی اچھے ماہر آئین و قانون سے پوچھ لیں  ایک تو آرٹیکل 62 اور 63 بھی آئین کے شفاف تالاب میں  جنرل ضیاء الحق کی گندگی کے ویسے ہی قطرے ہیں  جو اُنہوں  اور اُن کے بعد آنے والے دوسرے فوجی آمروں  نے ڈالے تھے اور جب بھی آئین کی حکمرانی بحال ہوگی ایسے بُتوں  سے آئین کے کعبے کو پاک کردیا جائے گا۔ دوسرے آئین کی دفعات براہ راست قانون نہیں  ہوتیں  ان کیلئے پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانون سازی کی جاتی ہے بالکل اُسی طرح جس طرح آرٹیکل 6 کے متعلق قانون سازی کرتے ہوئے High treason کی سزا مَوت رکھی گئی۔ یہ وہ قانون ہے جسے ابھی تک شرمندۂ عمل ہونے کا شَرف نہیں  مِلا۔ آرٹیکل 63/62 کے حوالے سے بھی قانون سازی کی گئی اور عوامی نمائندگی کا ایکٹ مِنّ وعَن (Ditto) اِس آرٹیکل کا چربہ ہے جو پارلیمنٹ کے ہر رکن پر نافذ العمل ہے۔ یہ الگ بات کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں  3 ماہ کی مخصوص مدت کے دوران نااہلی کی درخواست دائر کرنا پڑتی ہے۔ اب ایسی پارلیمنٹ جو اپنی فطری عمر پوری بھی کرلے تو تین ماہ تک ٹوٹ جائے گی۔ اس میں  اس قسم کا فضول ڈرامہ رچانا اور سپیکر جو خود بھی ایک قانون دان ہیں  ان کی طرف سے ریفرنس الیکشن کمشن کو بھیج دینا بہرحال محل نظر ہے کہ سپیکر کے دفتر میں  کئی کئی سال پرانے ریفرنس ابھی تک زیرالتواء پڑے ہوئے ہیں ۔ اگر قانون اور آئین کا کوئی ماہر موجود نہیں  تو اتنا دیندار تو ضرور ہونا ہی چاہئے جو اُن کو بتائے کہ اسلام ذاتی زندگی کے اندر جھانکنے سے منع کرتا ہے۔
کہا جاتا ہے  It is only when the tide goes out” you learn who”s been swimming naked کہ لہروں  میں  جوار بھاٹا آتا تب پتا پڑتا ہے کہ کون کون بے لباس تیر رہا تھا…بات وہی ہے کہ جب اللہ کی طرف سے بُرے دن آتے ہیں  تو سیدھی ڈالی ہوئی چال بھی الٹی ہوجاتی ہے اور اچھے اچھے لوگ ایسے کام کرنے لگتے ہیں  جن کی انہیں  نہ ضرورت ہوتی ہے نہ انہوں  نے ماضی میں  ایسا کیاہوتا ہے۔ چودھری شجاعت کو کیا آن پڑی کہ بچوں  کیلئے سفارتی پاسپورٹ لینے پڑے؟ ان کے قریبی حلیف مولانا فضل الرحمان کے اندر کی خواہش بھی کُھل گئی کہ جنرل پرویز بے شک وردی سمیت صدارتی انتخاب لڑیں  ہم اکیلے استعفے نہیں  دیں  گے اور پھر ایم ایم اے کی طرف سے اسمبلیاں  فوری طور پرتوڑنے کی مخالفت، کیونکہ اس سے پہلے تو اُن کا مطالبہ بھی اسمبلیاں  فوراً توڑ دینے کا تھا… شاہد جمیل تین دن پہلے تک وزیر تھا تو بالکل تندرست، حوالات کی ایک رات سے ہی دل کا مریض بن گیا اور ہسپتال پہنچا دیا گیا… لیکن بدقسمتی پیچھے لگ گئی اور سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس بھی لے لیا۔ چیف جسٹس کے معاملہ میں  مسلسل وکلاء کی تحریک کے حق میں  لکھنے والے کچھ لوگوں  کو بھی نہ جانے کیا دکھایا گیا کہ سرکاری لکھاریوں  کی فہرست میں  شامل ہونا پسند کرلیا حالانکہ یقیناً وہ جانتے ہوں  گے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد جاوید کے بیان حلفی کو مناسب طریقے سے مشتہر نہ کر پانا ہی محمد علی دُرّانی کا جرم بتایا جاتا ہے۔ دُرّانی صاحب بیچارے کیا کرتے سرکار کے خرچے پر پلنے والے کچھ قلمکاروں  کے مضامین تو اخبارات میں  چھپوائے گئے یہ الگ بات کہ آزاد اخبار نویسوں  نے پہلے دوسرے دن ہی اِن حلف ناموں  کی دَھجّیاں  اڑا دی تھیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اب وزیر اطلاعات نے ذاتی تعلقات کا حوالہ دے کر کچھ لوگوں  کو اس پر آمادہ کرلیا ہو لیکن لکھنے والے کیوں  اپنی ذات کے ساتھ رسوائیوں  کا لیبل نتھی کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ بینظیر بھٹو کیخلاف چاہیں  لکھیں  کہ 40 سالہ پرانا مناقشہ ہے اور پرانے درد جاگ رہے ہیں  لیکن نوازشریف کے حق میں  کیوں  نہیں  لکھتے کہ انہوں نے تو ان لوگوں  پر ذاتی مہربانیاں  کی ہوئی ہیں ۔ اور رہی  حکومت تو چیف جسٹس کی لائیو کوریج پر پابندی بھی اس کے درد کی دوا نہیں  بن سکی۔ ہجوم ہے کہ اُمڈے ہی چلے آرہے ہیں …
تین دن پہلے قبائلی علاقہ میں  تقریباً چالیس لوگ مارے گئے اور ہمارے حکمرانوں  نے اس خون ناحق کو رائیگاں  قرار دے دیا۔ کل جنوبی وزیرستان میں  افغانستان سے ہونے والی امریکی فوجوں  کی بمباری اور اس سے شہید ہونے والے درجنوں  بے گناہوں  کا خون کس کے سر ہوگا؟ جامعہ حفصہ (لال مسجد) کے خدائی فوجداروں  نے اب کی بار چینی عورتوں  کو یرغمال بنا لیا  اور حکومت منہ میں  گُھنگنیاں  ڈالے بیٹھی رہی مقدمہ درج کرلیا گیا  ساتھ ہی  مصالحت آمیز دھمکیاں  دی جارہیں   چینی سفیر سے لال مسجد والوں  کی فرنٹیئر ہاؤس میں  ملاقات کرائی گئی کیا ساری حکومتی رٹ اور عملداری بے گناہوں  کے خون سے ہاتھ رنگنے میں  مُستَمِر ہے؟ کہا جارہا ہے کہ آپریشن کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے گی۔ آخری خبر یہ تھی کہ حکومتی منت سماجت کے بعد مولویوں  اور ملوانیوں  نے یرغمالیوں  کو رہا کر دیا ہے۔ کیا قبائلی علاقوں  اور بلوچستان میں  خون بہاتے وقت پارلیمنٹ کسی کو یاد نہیں  آئی؟ لوگ اور معاملات اتنے سیدھے نہیں  ہوتے جتنے دکھائی دیتے ہیں  لیکن آج کل سارے راز آشکار ہیں  اور سارے لوگ بے نقاب… بہرحال نہ جانے کیوں  لگتا ہے کہ جنرل پرویزمشرف کی خواہش ہے کہ قوم کو فوج کی حکمرانی اورالطاف بھائی کے بَھتّہ خوروں  سے مستقل نجات دلا دی جائے۔ کارگل کی شکست سے نوازشریف کی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنے، چیف جسٹس کی مس ہینڈلنگ اور قبائل میں  انسانی خون کی ارزانی تک کتنے واقعات ایسے ہیں  کہ نہ ہوتے تو کون فوج کو گالی دیتا؟ جی ایچ کیو کے سامنے لاپتا افراد کے ورثاء مظاہرے کرتے تھے اب کور کمانڈر ہاؤس لاہور کے سامنے نعرہ بازی ہوگئی، آگے کیا ہوگا؟ سب کو صاف نظر آرہا ہے! یہ سارے حالات “یاروں ” کے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں  اور شاید ان کو بھی امید یہ ہے کہ جس طرح بینظیر بھٹو نے جنرل اسلم بیگ کو تمغۂِ جمہوریت سے نوازا تھا اُسی طرح پاکستانی عوام جنرل پرویزمشرف کو بھی “تمغۂِ نجات از فوج” عطا کریں  گے۔ سو اس کیلئے ایسے ایسے اقدامات کررہے ہیں  کہ نفرت اس آخری حد تک چلی جائے کہ “درد کا  حد سے گزرنا  ہے دوا بن جانا”والا معاملہ ہوجائے
پھر جِگر کھودنے لَگا نَاخُن
آمَدِ فصلِ لَالَہ کَاری ہے
چشمِ دَلاّل جِنسِ رُسوائی
دِل خریدارِ ذوقِ خواری ہے
بے خُودی بے سبب نہیں  غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

This entry was posted in اطہر مسعود کا لم ۔۔۔ دیدہ بینا, سیاست and tagged , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s